رپورٹ کے مطابق جلال المھر نے اپنے خلاف ایک جعلی فرد جرم اور بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف ڈیڑھ ماہ قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ بھوک ہڑتال کے نتیجے میں حالت بگڑنے پر اسے طبریا کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت بدستور تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
ادھر بھوک ہڑتالی شہری محمد جمال المھرکی ہمشیرہ کوثر المھر نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے بھائی نے طبریا کے اسپتال میں بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ کوثر نے بتایا کہ اس کے بھائی نے کہا ہے کہ وہ رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھے گا۔
اسیر کی ہمشیرہ نے بتایا کہ اس کے بھائی محمد جمال المھرکو اسرائیلی فورسز نے گذشتہ برس تین نومبر کو حراست میں لیا ۔گرفتاری کے بعد اس پر یہودی فوجیوں پر چاقو سے حملے کی کوشش کے الزام میں فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔
کوثر المھر نے بتایا کہ دوران تفتیش جمال المھر کی خاتون وکیل حنان الخطیب نے بتایا کہ ان کے موکل نے اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ اس نے یہودی آباد کاروں پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا مگر عین موقع پر اس نے فیصلہ تبدیل کرلیا تھا۔ تاہم صہیونی حکام نے اس کے باوجود جمال کے خلاف فرد جرم عائد کردی۔
