(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ایک فلسطینی مریض شہری کے ساتھ برتے گئے صہیونی انتظامیہ کے ناروا سلوک کے نتیجے میں قیدی کی حالت بری طرح بگڑ گئی ہے۔ اسیر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بسام السایح جیل میں زندگی اور موت کی کشمکش
میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیماری کے باعث تشویشناک حالت سے دوچار فلسطینی قیدی بسام السایح کی اہلیہ منا ابو بکرنے بتایا کہ اس کا شوہر اسرائیل کی ’’مجد‘‘ جیل میں پابند سلاسل ہے جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ منا نے بتایا کہ اس کے شوہر کے دل کے مسام بند ہیں اور دونوں گرے بھی ناکارہ ہوچکے ہیں۔ اس کیفیت میں وہ بات کرنے یا چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔
فلسطینی خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہرکی خرابی صحت کی بنیادی وجہ اسرائیلی تفتیش کاروں کی جانب سے ان سے ناروا سلوک ہے، کیونکہ انہیں بیماری کےباوجود جیل میں نہ صرف تشدد کیا گیا بلکہ جیل میں انہیں کسی قسم کی سہولت نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ 43 سالہ بسام السایح کو صہیونی فوج نے 10 اگست 2015 ء کو مغربی کنارے کے نابلس شہر سے ان کی اہلیہ منا ابو بکر سمیت حراست میں لیا تھا۔ منا کو بعد میں رہا کردیا گیا تاہم بسام ابھی تک پابند سلاسل ہیں۔ بسام کے ایک ایک بھائی اسرائیل جیل میں قید ہیں جہاں انہیں 20 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
