قابض صہیونی فوج اور ریاست کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث فلسطینی شہری متنازعہ قرار دیے گئے اپنے مکانات خود اپنے ہاتھوں مسمار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اپنا گھرخود گرانے پر مجبور کیے جانے کی ایک تازہ مثال بیت المقدس کے 43 سالہ سامر محمود زعترہ کی ہے جسے حال ہی میں اسرائیلی فوج نے نوٹس جاری کیا تھا کہ وہ قددیم شہر میں السرایا عقبہ کے مقام پر بنایا گیا مکان خود ہی گرادے کیونکہ یہ مکان اسرائیلی بلدیہ کی اجاازت کے بغیر تعمیر کیا گیا ہے۔
فلسطینی مظلوم شہری زعترہ نے مقامی شہریوں اور صحافیوں کو بتایا کہ اس نے بیت المقدس میں 24 مربع میٹرکی جگہ پرایک چھوٹا سا فلیٹ تعمیر کیا تھا جس میں صرف دو کمرے اور ایک برامدہ تھا۔ صہیونی حکام کی جانب سے اسے حکم دیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پراپنے ہاتھوں سے مکان گرادے ورنہ فوج کارروآئی کرکے مکان بھی گرائے گی اور اس کے بعد اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دے گی۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے میں نے خود ہی مکان کا ایک حصہ گرادیا ہے۔
محمود زعترہ کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج کی جانب سے ملنے والے نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ اگرمیں نے خود مکان نہ گرایا تو مجھے اس کے بدلے میں اسرائیلی بلدیہ کو 21 ہزار ڈالر کے مساوی جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ مکان خود گرانے کے باوجود اسے 3400 ڈالر کا جرمانہ طلب کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ میں نے یہاں پر اسرائیلی بلدیہ سے اجازت لیے بغیر مکان تعمیر کیا تھا۔ یہ اس غیر قانونی اقدام کا جرمانہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
