القدس فاؤنڈیشن نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ عرصے میں مسجد اقصی میں داخل ہو کر اس کی بے حرمتی پر مبنی رسومات کی ادائیگی کرنے والے یہودیوں نے اب قبلہ اول میں ایسٹر تہوار کی تقریبات منعقد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی علاقے میں موجود یہودی مرکز ”منہیجوت یہودیت” میں اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کامقصد مسجد اقصی میں ایسٹر تہوار کی عبادات کی ادائیگی کے انتظامات کرنا تھا۔
اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہودی تنظیموں کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں معروف یہودی ربی اور موشے ویجلین سمیت اراکین پارلیمان شرکت کریں گے، اس کانفرنس میں مسجد اقصی میں ایسٹر عبادات کی ادائیگی کی کوششوں پر مبنی فلم بھی پیش کی جائیگی۔
اقصی فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کوہدف بنایا جا رہا ہے اور اسرائیل کے مسجد پر حملے خطرناک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت انتہاء پسند یہودی تنظیموں اور شر پسند صہیونیوں کو مکمل مدد فراہم کر رہی ہے ، صہیونی حکومت کی پوری مدد کے ساتھ انتہاء پسند یہودی مسلسل مسجد اقصی میں گھس کر اس کا تقدس پامال کر رہے ہیں ، قبلہ اول میں رقص و سرور پر مبنی تلمودی رسومات اور تورانی عبادات ادا کی جا رہی ہیں۔
اقصی فاؤنڈیشن کے مطابق مسجد اقصی کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے، اسرائیلی حکومت، میڈیا، مذہبی اور عدالتی حلقے سب ایک ساتھ مل کر مسجد اقصی پر یہودیوں کا حق جتانے کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
