صہیونیوں کے ہاتھوں مسجد کی توہین پر اسلامی مقدسات کی حفاظت کے ذمہ دار حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہ مسجد اور مقام ماضی میں کئی بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ادھر الاقصی ٹرسٹ اور ہریٹیج فاؤنڈیشن کے وفد نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی متاثر مسجد کا دورہ کیا۔ وفد نے صہیونی جارحیت سے مسجد کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا اور حملے کے وقت موجود چند افراد سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کے خلاف صہیونی جارحیت کا ارتکاب رات کی تاریکی میں کیا گیا۔ اس حملے میں مسجد کو سخت نقصان پہنچایا گیا۔
الاقصی فاؤنڈیشن کے صدر انجینئر زکی محمد اغباریہ نے رات کی تاریکی میں مسلمانوں کے مقدس مقام مسجد داؤد پر حملے کو بردلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ کارروائی بھی دراصل القدس میں مقدسات اسلامیہ کی توہین کے پرانے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ اغباریہ نے مطالبہ کیا کہ مسجد داؤد کو مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔
یاد رہے کہ مسجد کے خلاف ماضی میں بھی کئی بار جارحیت کا ارتکاب کیا جا چکا ہے۔ مسلسل حملے اس بات کی گواہی ہیں کہ یہودی جان بوجھ کر ایسے حملوں کے ذریعے مسجد کی تمام اسلامی نشانیاں مٹا کر اسے تلمودی اور توراتی مزار بنانا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
