• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 11 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

صدر عباس نے مصرکی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی کوحق بہ جانب قراردیا

جمعہ 08-01-2016
in فلسطین
0
pal00814
0
SHARES
0
VIEWS

(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کی بین الاقوامی گذرگاہ رفح کی بندش کی حمایت کرتے ہوئے اس کی بندش کا قصور واراسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کو ٹھہرایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کی جانب سے اپنی قوم سے دشمنی پرمبنی یہ متنازع بیان کل بدھ کو سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصر کو رفح کی گذرگاہ بندکرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ان کے اس بیان پر فلسطین میں عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت غم وغصے کی لہردوڑ گئی ہے۔

صدر عباس نے بیت لحم شہر میں صدارتی دفتر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے کہا کہ غزہ کی پٹی کا بحران حل کرنے کے لیے فلسطینی تنظیموں نے جو تجاویز پیش کی ہیں تھیں اگرچہ ہمارے لیے قابل قبول نہ تھیں مگر ہم نے انہیں اس لیے بادل نخواستہ قبول کرلیا کیونکہ نے حماس کی جانب سے بھی بحران کےحل کے لیے غور کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

صدر عباس نے حماس پر کئی الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ رفح گزرگاہ کی بندش کی ذمہ دار حماس ہے۔ کیونکہ حماس کی جانب سے رفح گذرگاہ کی مانیٹرنگ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے نہیں جس پرمصر کے ساتھ بحران پیدا ہواْ اس کے علاوہ حماس نے قومی حکومت کی تشکیل میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور فلسطین میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی بھی مخالفت کی ہے۔

دوسری جانب حماس نے صدر عباس کے تمام الزامات مسترد کردیے۔حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صدر عباس کے الزمات میں کوئی حقانیت نہیں ہے۔ وہ فلسطینی دشمنی پر مبنی بیانات جاری کررہے ہیں۔

صدر عباس نے اسرائیل کے ساتھ ایک بار پھر دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ بامقصد اور تعمیری بات چیت کی بحالی کے لیے کسی بھی وقت اور کہیں بھی جانے کو تیارہیں۔ صدر ابو مازن نے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کی بھی مخالفت کی اور دبے لفظوں میں تحریک انتفاضہ کو شدت پسندی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے زیرانتظام علاقوں میں شدت پسندی کے فروغ کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے اسرائیل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ان کی پیش کردہ تجاویز قبول کرے اور تعطل کاشکار بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے ماحول ساز گار بنایا جائے۔

Tags: israelipalestineThirdIntifadaUnitedForPalestineصدر عباس نے مصرکی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی کوحق بہ جانب قراردیا
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.