عرب لیگ نے اسرائیلی جیل میں زیرحراست فلسطینی رہ نما شیخ خضرعدنان کی مسلسل 66 دن کی بھوک ہڑتال پر انہیں شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔
عرب لیگ کا کہنا ہے کہ شیخ عدنان نے تمام تردباؤ اور تشدد کو مسترد کر کے مسلسل چھیاسٹھ دن تک بھوک ہڑتال جاری کے ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بہترین مثال قائم کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے معاون برائے فلسطینی امور السفیر محمد الصبیح نے کہا ہے کہ شیخ خضرعدنان نے طویل مدت تک بھوک ہڑتال کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ فلسطینی قوم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اپنے جائز مطالبات کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم رکھتی ہے۔ شیخ عدنان کی مسلسل بھوک ہڑتال نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی ایک نیا حوصلہ، جذبہ اور ولولہ دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دیگر اسیران کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے۔
اپنے بیان میں عرب لیگ کے عہدیدار نے کہا کہ فلسطینی اسیر شیخ عدنان نے طویل بھوک ہڑتال کی۔ اسرائیلی فوج اوراس کے خفیہ اداروں کی جانب سے اسیر پر ہر طرح سے دباؤ ڈالا گیا لیکن اس نے صہیونی دشمن کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے حوق اور جائز مطالبات کے لیے کسی دباؤ کا شکار نہیں ہو سکتے البتہ اپنےعزم کے ساتھ بڑے بڑے ظالموں کے اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ شیخ خضرعدنان نے یہ ثابت کیا کہ صہیونی جارحیت اور طاقت کا بہیمانہ استعمال بھی انہیں ان کے بنیادی حقوق کے مطالبے سے باز نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے اس وقت اپنی بھوک ہڑتال ختم کی جب اسرائیل نے یہ اعلان کیا کہ شیخ عدنان کو چھ اپریل کو رہا کر دیا جائے گا۔
عرب لیگ کےعہدیدار نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست ہزاروں فلسطینیوں کی رہائی اور ان کے بنیادی حقوق کےلیے ٹھوس کردار ادا کریں۔
سفیر محمدالصبیح کہہ رہے تھے اسرائیلی جیلوں میں اس وقت بھی کم سے کم 6000 فلسطینی قید و بند کی صعوبتیں اٹھا رہے ہیں، ان میں سے 600 قیدیوں کو انتظامی تحویل میں رکھا گیا ہے جن پر کسی قسم کا الزام یا مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا۔ عالمی قوانین کی رو سے یہ تمام اسیر بے گناہ اور معصوم ہیں اور انہیں طویل عرصے تک جیلوں میں رکھنے پر اسرائیل کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

