مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شہید کی میت گذشتہ روز صہیونی فوج نے نابلس کے ایک مرکزی اسپتال میں پہنچا دی تھی جہاں سے اس کے ورثاء لے آئے اور شام تک اسے سپرد خاک کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے شہید ظاھر کو چار جون کو نابلس میں دیوار فاصل کے قریب کھڑے ہونے کی پاداش میں گولیاں مار کر شہید کردیا تھا، جس کے بعد دشمن فوجی اس کی میت بھی ساتھ لے گئے تھے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا فلسطینی نوجوان صہیونی فوج کے لیے کوئی خطرہ بنا تھا یا نہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ظاھر کی میت قبضے میں لینے پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ عالمی انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیل سے بار بار مطالبہ کیا تھا کہ وہ شہید نوجوان کی میت اس کے وراثاء کے حوالے کردے۔
خیال رہے کہ شہید ظاھر طولکرم میں الیکٹریکل انجینیئرنگ کالج میں زیر تعلیم تھا۔ وہ گذشتہ بدھ کو اپنے دوستوں کے ہمراہ سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں محنت مزدوری کے لیے گیا تھا لیکن صہیونی فوج نے اسے گولیاں مار کر شہید کردیا۔
