(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر نے جولائی 2014 ء میں اغواء کے بعد نہایت بے رحمی کے ساتھ ایک فلسطینی لڑکے ابو خضیر کو شہید کرنے میں ملوث مرکزی مجرم کا نفسیاتی مریض ہونے کا ڈھونگ مسترد ہونے کے بعد دوبارہ ٹرائل کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ ابو خضیر شہید کے مرکزی قاتل یوسف بن ڈیوڈ کے بارے میں طبی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں اس کے نفسیاتی عوارض کے شکار ہونے کے تاثر کی تردید کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دہشت گرد بن ڈیوڈ کے خلاف دوبارہ مقدمہ کی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پراسیکیوشن ٹیم اور طبی ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ قاتل بن ڈیوڈ کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلایا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے نفسیاتی مریض ہونے کا تاثر ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم مکمل طورپر بہ قائم ہوش ہواس ہے اور اس نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر ایک منظم منصوبے کے تحت ابو خضیرکو اغواء کے بعد قتل کیا ہے۔
خیال رہے کہ چند ہفتے قبل اسرائیلی عدالت میں دائر کردہ ایک درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یوسف بن ڈیوڈ ایک ذہنی مریض ہےاس لیے اسے ابو خضیر کے قتل کا دانستہ مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جس کے بعد عدالت نے اس کا مکمل طبی معائنہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ابو خضیرکے وحشیانہ قتل میں ملوث دو دوسرے یہودی دہشت گروں میں سے ایک کو حال ہی میں عمر قید اور دوسرے کو اکیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دونوں کی عمریں اٹھارہ سال سے کم بتائی جاتی ہیں۔
