خیال رہے کہ ابوجمل نے اور اس کے ایک دوسرے ساتھی نے دو ہفتے قبل بیت المقدس میں ایک یہودی معبد میں فدائی حملہ کرکے کم سے کم پانچ یہودیوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کردیا تھا۔
اس کارروائی کے بعد اسرائیلی حکومت نے شہداء کے مکانات مسمار کرنے، انہیں بیت المقدس سے بے دخل کرنے سمیت انہیں کئی دوسری نوعیت کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
اسی دوران اسرائیلی وزارت داخلہ کو ایک درخواست دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ابو جمل کے قریبی عزیزوں کی بےدخلی کے فیصلے میں اس کی بیوہ نادیہ ابو جمل کو شامل نہ کیا جائے تاہم صہیونی وزیرداخلہ گیلاد ارڈان نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نادیہ بھی حملہ آور غسان کے عزیزوں میں شامل ہے اور اسے بھی ہر صورت میں القدس بدر کیا جائے گا۔
اسرائیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نادیہ ابو جمل رضاکارانہ طور پر بیت المقدس چھوڑ دے اور مغربی کنارے میں چلی جائے۔ نیز اس کے شوہر کے فدائی حملے کی پاداش میں اس (نادیہ) کے تمام سماجی اور معاشرتی حقوق بھی اس سے سلب کرلیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ جو شخص بھی ’’دہشت گردی‘‘ کا مرتکب پایا جائے گا اس کی سزا اس کے تمام اہل خانہ بشمول اس کی بیوی بچوں کو بھی بھگتنا ہوگی۔
خیال رہے کہ نادیہ ابوجمل کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے مشرقی شہر السواحرہ سے ہے۔ شادی کے بعد وہ بیت المقدس میں منتقل ہوگئی تھی اور اسرائیلی بلدیہ کی جانب سے القدس کی شہری کی حیثیت سے قبول کرلیا تھا۔ نادیہ کے تین بچے ہیں۔ ان میں سب سے بڑے بجے کی عمر چھ سال ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
