• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

شہداء کے نقش قدم پر چلنے سے فلسطین آزاد ہو گا: خالد مشعل

اتوار 23-03-2014
in فلسطین
0
plf khaled
0
SHARES
3
VIEWS

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور جماعت کے جلا وطن لیڈر خالد مشعل نے کہا ہے کہ فلسطین شہداء کے نقش قدم پر چلنے سے آزاد ہو گا۔ اس کے علاوہ وطن کی آزادی کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی دھڑوں میں پائی جانے والی بے اتفاقی”نفرت انگیز” اور فلسطینی تاریخ کا نہایت گھناؤنا کردار ہے۔ اس باب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جانا چاہیے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق خالد مشعل نے ان خیالات کا اظہار دوحہ میں جامعہ قطر کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ فلسطینی اپنے بنیادی اصولوں اور مبادیات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک متحدہ سیاسی نظام تشکیل دیں۔ فلسطین میں صرف ایک حکومت قائم ہو۔ صدر ایک ہو، مجلس قانون ساز ایک ہو، تنظیم آزادی فلسطین ایک ہو۔ یہ نظام جمہوریت اور باہمی شراکت کے اصول کے تحت قائم کیا جائے۔ پھر انتخابات کرائے جائیں اور اس بات کو بھلا دیا جائے کہ ان کے نتائج کیا آتے ہیں۔ جو بھی نتائج سامنے آئیں انہیں قبول کر لیا جائے۔

 

خالد مشعل نے کہا کہ ملک و قوم کے لیے سیاسی فیصلوں کا اختیار فرد واحد کے پاس نہیں بلکہ تمام نمائندہ فلسطینی دھڑوں کے پاس ہونے چاہئیں۔ جب ہم سب مل کر قوم اور ملک کے کوئی سیاسی فیصلہ صادر کریں گے وہ ہر ایک کے لیے قابل قبول ہو گا۔

اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے حماس رہ نما نے کہا کہ ہر قوم اپنی آزادی کی جدو جہد کو کامیاب اور ثمرآور دیکھنا چاہتی ہے۔ ہر طبقے کی خواہش ہے کہ اس کی قربانیوں اور خدمات کے عوض اس کی تاج پوشی کی جائے۔ فلسطینی عوام نے بھی آزادی کے لیے طویل جدو جہد کی ہے۔

یہ تحریک اب بھی جاری ہے۔ بہادر فلسطینی قوم نے نہتے ہو کر بھی دشمن کو بھاری مادی اور معنوی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بھی کیا کم ہے کہ اسرائیلی دشمن اپنے دفاع کے لیے خود اپنے اوپراپنی طاقت سے زیادہ کا بوجھ ڈال رہا ہے۔ یہ سب فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت کا ثمر ہے۔

میں مذاکرات کا قطعی مخالف نہیں ہوں لیکن مذاکرات بے مقصد ثابت ہوں تو انہیں جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مذاکرات صرف زمین پرکامیابیوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ہونے چاہئیں۔ ہماری اصل طاقت مذاکرات نہیں بلکہ مسلح مزاحمت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومیں آزادی کے لیے صدیوں جنگ لڑتی ہیں۔ فلسطینی بھی ایک صدی سے آزادی کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔ اللہ کا شکرہے کہ ہرآنے والے دن فلسطینی پہلے سے زیادہ پرعزم اور تازہ دم دکھائی دیتے ہیں۔ بہادر فلسطینی قوم نے کبھی بھی تھکاوٹ کا اظہار نہیں کیا۔ اب ہماری آزادی کی منزل بہت قریب ہے۔ آزادی کے جس تاج کے لیے ہمارے آباؤ اجداد لڑتے آرہے ہیں اب وہ ہمارا منتظر ہے۔ ہم فلسطین کے چپے چپے کو دشمن سے آزاد کرائیں گے۔ وطن سے طاقت کے ذریعے نکال باہر کیے گئے لاکھوں باشندوں کو واپس ان کے گھروں اور بستیوں میں آباد کریں گے۔ اللہ نے چاہا تو یہ سب کچھ عنقریب ہوگا۔

خالد مشعل نے کہا کہ "اسرائیلی استعماری طاقتوں کا خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے کی اقوام کے درمیان تفریق پیدا کرنے کا ایک آلہ ہے۔ بڑی طاقتیں اسرائیل کی مدد سے اپنے علاقائی مفادات کا تحفظ کررہی ہیں۔ انہیں فلسطینی قوم کی آزادی سے کوئی غرض نہیں ہے”۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی تحریک آزادی کا "بیس کیمپ” ہے۔ غزہ نے خود کو "عزت” اور قومی وقار کی علامت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔360 مربع کلومیٹر کے اس ساحلی شہرکے جانبازوں نے اسرائیلی دشمن تک پہنچنے والے راکٹ تیار کیے، باہر سے ہتھیار پہنچائے،سرنگیں کھودیں اور دو سال کے عرصے میں دو مرتبہ دشمن کی مسلط کردہ جنگ کا پامردی سے مقابلہ کیا۔

خالد مشعل نے اخبارات میں آنے والی ان خبروں کو بھی بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ قطر کی جانب سے حماس کی قیادت دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور حماس کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں۔

دوحہ کی جانب سے ہم پرکوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہم قطر کے نمک خوار ہیں اور قطری قیادت کے عالمی مرتبے کا احترام کرتے ہیں۔ آج تک ہم نے دوحہ کی جانب سے وہی کچھ سنا ہے جو حق ہے۔ حماس یا فلسطینی قوم کے بارے میں قطر کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ قطر صرف حماس کے ساتھ نہیں بلکہ تمام فلسطینی گروپوں کے ساتھ یکساں تعلقات رکھنے والا ملک ہے۔

اپنی تقریرکے اختتام پر انہوں نے مصر کی جانب سے حماس پر پابندیوں کے نفاذ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں افسوسناک قرار دیا۔ خالد مشعل کا کہنا تھا کہ مصری حکومت کے اقدامات سے حماس پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے لیکن اس کے غزہ کے ڈیڑھ ملین لوگوں کی زندگیوں پر ضرور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں فوجی انقلاب کے بعد حماس کے ساتھ ایسا ہونا از بس ممکن تھا۔

انہوں نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے بارے میں اپنے دلوں میں تنگی کے بجائے کشادگی پیدا کریں کیونکہ فلسطینی عوام جن مشکلات سے گذر رہے ہیں انہیں صرف عرب اور مسلمان ملک ہی دور کر سکتےہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.