اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے دو اڈوں پر خوفناک بمباری کی جس کی زد میں آ کر دو افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
فلسطینی وزارت داخلہ صہیونی کارروائی کی شدید مذٓمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ غزہ کی فلسطینی حکومت کی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف قدرہ نے بتایا کہ صہیونی بحریہ نے غزہ کی پٹی میں تحریک احرار کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ بمباری میں پینتالیس اور پچیس سال کے دو فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی سہولیات کے لیے شفاء ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دونوں کو جسم کےمختلف حصوں پر بموں کے ذرات لگنے سے گہرے زخم آئے ہیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ ایف سولہ طرز کے صہیونی جنگی طیاروں نے حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے زیر انتظام شہید عماد ابو قادوس کے نام سے منسوب اڈے اور تحریک احرار کے ایک اڈے پر الگ الگ بمباری کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ صہیونی فضائیہ کی بمباری کی آواز سن کر فلسطینی میڈیکل اور ایمرجنی سروسز کے اہلکاروں فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرفروانہ ہو گئے۔ ادھر اسرائیلی بمباری پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی وزارت داخلہ نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ وزارت کے ترجمان انجینئر ایھاب غصین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی طیاروں کی بمباری غزہ کے شہریوں کیخلاف منظم دہشت گردی تھی۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ پر اپنے بیان میں غصین نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ کارروائی بھی داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش تھی۔ صہیونی حکام ہمیشہ اپنے مشکلات کو فلسطینیوں کے خون سے دھونے سے کوشش کرتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی اپنے حقوق کےحصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت ہر حال میں جاری رہے گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
