اسرائیلی حکام نے ماہ صیام کی چھبیس تاریخ، منگل کے روز چالیس سال سے زائد عمر کے مرد اور خواتین کے شہر القدس میں داخل ہونے اور مسجد اقصی پہنچنے قلندیا کراسنگ کھول دی، صہیونی انتظامیہ نے کراسنگ کو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھولا اور تمام قسم کی گاڑیوں کو مشرقی القدس داخل ہونے سے روک دیا۔
سن 1948ء میں اٹہتر فیصد فلسطین پر قبضہ کرکے بنائی گئی صہیونی ریاست اسرائیل نے ہزاروں افراد حرمین شریفین کے بعد تیسری مقدس ترین مسجد میں عبادت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے القدس میں داخل ہونے کے لیے بے تاب تھے، تاہم رش کی وجہ سے قلندیا کراسنگ پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ اسرائیلی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے صرف عمر رسیدہ مرد حضرات کو ہی القدس میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران مشرقی القدس اور مسجد اقصی پر قبضہ کرکے 1980ء میں مغربی اور مشرقی حصے پر مشتمل متحدہ القدس کو اپنا دارالخلافہ قرار دے رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مشرقی القدس کو مقبوضہ علاقہ قراد دینے کے باوجود اسرائیل نے مشرقی القدس کو نسلی دیوار اور یہودی بستیوں کے ذریعے مغربی کنارے سے الگ کر رکھا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو مشرقی القدس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ چنانچہ مغربی کنارے میں بسنے والے 15 لاکھ فلسطینی اسی طرح مقبوضہ فلسطین کے سولہ لاکھ افراد کے چالیس سال سے کم عمر افراد لیلۃ القدر کے موقع پر قبلہ اول میں داخلے سے روک دیے گئے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
