فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے شام میں فلسطینی مہاجر کیمپ‘‘یرموک’’ میں گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہری کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر رہے ہیں۔ شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کےکیمپ پر حملہ اور بیس سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ایک جارحانہ اور بزدلانہ کارروائی ہے جس کی بھرپور مذمت کی جائے گی۔ خیال رہے کہ جمعرات کی شام دمشق کے نواح میں فلسطینی پناہ گزینوں کی خیمہ بستی‘‘یرموک’’ میں سرکاری فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں بیس فلسطینی شہید اور 65 زخمی ہو گئے تھے۔ بیشتر زخمیوں کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کے بعد صحافیوں اور اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘یرموک مہاجر کیمپ میں گولہ باری سے مارے جانے والے تمام شہریوں کو شہید قرار دیا جائے گا کیونکہ وہ بے قصور مارے گئے ہیں۔ ہم اس وحشیانہ قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے دمشق حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی شہریوں کےقتل عام میں ملوث اہلکاروں کےخلاف سخت کارروائی کریں’’۔ ایک سوال کے جواب میں فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی تنظیموں اور شام میں موجود پناہ گزینوں نے ملک میں جاری تحریک میں غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے شہریوں پر اس وحشیانہ انداز میں گولہ باری ایک بزدلانہ کارروائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہری شام کے مستقل شہری نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت مہمانوں کی طرح ہے۔ اپنے مہمانوں کا خون بہانے اور ان کی لاشی گرانے والے کسی صورت میں قابل تعریف نہیں ہوسکتے ہیں۔ فلسطینیوں کا خون اتنا سستا نہیں ہے کہ اسے پانی کی طرح بہانا شروع کر دیا جائے۔ ہم صرف فلسطینیوں کی شہادتوں کی مذمت نہیں کرتے ہیں بلکہ بے گناہ شامی شہریوں کی ہلاکتوں پر کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کی مساعی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ اسرائیل سے مذاکرات یا فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت میں سے کوئی ایک کام ہی ہوسکتا ہے۔ اس وقت فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس امریکا کی جانب سے سخت دباؤ کا شکار ہیں۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کا عمل بھی معطل ہو چکا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین