گزینوں پر حملے بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ سرکاری فوج کے فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری غیر جانبدار رہنے والے فلسطینی مہاجرین کو بھی نگلتی جا رہی ہے۔ 900 کے لگ بھگ فلسطینی پناہ گزیں اب تک اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ تازہ حملوں میں مزید تین فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔
”ورکنگ گروپ برائے شامی فلسطین” نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں بتایا کہ یرموک کیمپ کے علاقے خان شیخ میں شامی فوج کی جیش الحر کے ساتھ انیس جنوری کی جھڑپوں میں زخمی ہونے والا چار سالہ عبد اللہ فراس شھابی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ الشھابی کو سر پر شدید زخم آئے تھے۔ سرکاری فوج نے حسینیہ کیمپ پر بھی گولہ باری کی جس کی زد میں آ کر عوض محمد احمد نام کا فلسطینی مہاجر شہادت پا گیا۔ ادھر درعا کیمپ پر ایک حملے میں رافع عدوان چل بسا۔
ورکنگ گروپ برائے فلسطینی مہاجرین، شام کے مطابق یرموک کیمپ میں آدھی رات کے بعد ایک ھاون راکٹ گرنے کی اطلاعات ہیں تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس واقعے کے بعد کیمپ کے نوجوانوں نے ”عبد القادر الحسینی” مسجد کے سامنے زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے یرموک کیمپ کے محاصرے کے فی الفور خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے یرموک کیمپ کے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
دوسری جانب شامی فوج کسی طرح کی یرموک کیمپ کا گھیراؤ ختم کرنے کو تیار نہیں۔ کیمپ میں ابتر صورتحال کے باوجود شامی فوج کیمپ میں ادویات اور خوراک داخل کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیمپ کے مکینوں کی زندگی تلخ ہوتی جا رہی ہے۔
حسینیہ کیمپ میں بھی صدر بشار الاسد کی حامی فوج اور جیش الحر کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئیں۔ کیمپ کے مختلف علاقوں میں درمیانے اور بھاری اسلحے کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔
