سابق فلسطینی وزیر برائے جملہ امور اسیران وصفی قبھا نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی نوجوانوں کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل قومی، مذہبی اور اخلاقی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
قبھا نے یہ بیان فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسلامی بلاک سے تعلق رکھنے والے چھ طلباء کی النجاح یونیورسٹی سے حراست کے بعد دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی گرفتاریاں فلسطینی عوام کے درمیان اضطراب کی صورتحال پیدا کردیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سیاسی گرفتاریوں میں اضافہ اسرائیل کی حراستی مہم میں تیزی کے ساتھ ہی دیکھا جارہا ہے جو کہ دونوں پارٹیوں میں سیکیورٹی تعاون کا مظہر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی فلسطینی عوام کے رسوم، مزاحمت اور جدودجہد کی روایات اور وراثت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے تمام قومی فورسز اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کے جرائم کو دنیا کے سامنے لائیں اور ان پر دبائو ڈالیں تاکہ وہ فلسطینی نوجوانوں خاص طور پر سابق اسیران اور طلباء کے خلاف کارروائیوں سے باز رہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
