فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسزکی جانب سے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب عباس ملیشیا کی جیلوں میں زیرحراست سیاسی کارکنوں کو ہولناک اذیتیں دینے کی بھی اطلاعات آئی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق منگل کے روز عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے مغربی کنارے کے شہروں نابلس، طولکرم اور طوباس سے حماس کے کئی رہ نماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ محروسین میں سابق قیدی بھی شامل ہیں جو پہلے بھی کئی مرتبہ عباس ملیشیا کی جیلوں میں زیرحراست رہ چکے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق نابلس میں عباس ملیشیا کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں سابق اسیر علاء الشولی کو حراست میں لے لیا گیا۔ الشولی کئی سال تک اسرائیل کی جیلوں میں بھی قید رہ چکے ہیں اور انہیں کئی مرتبہ عباس ملیشیا کی جیلوں میں بھی رکھا گیا ہے۔ عباس ملیشیا کی جیلوں میں الشولی پربہیمانہ تشدد کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔
ادھر ضلع طولکرم میں عباس ملیشیا کی انٹیلی جنس فورس نے سابق اسیر عماد بدیر کو کو حراست میں لے لیا۔ ان کے ساتھ تین دیگر شہریوں کو فوری طورپر خود کو حکام کے حوالے کرنے کے نوٹس بھی جاری کیے گیے ہیں۔ طوباس سے
عباس ملیشیا نے سابق اسیر عرفات صوافہ کو حراست میں لیا۔ صوافہ کے ایک بھائی فازع صوافطہ اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں۔
ادھر ایک دوسری پیش رفت میں محروسین کے اہل خانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کی زیرانتظام جنید اور دیگر حراستی مراکز میں مقید شہریوں پردوران تشدد ہولناک تشدد کیا جا رہا ہے۔ تشدد کے دوران کئی اسیران کی حالت نازک ہوچکی ہے اور اس کے باوجود عباس ملیشیا کے غنڈہ گرد انہیں مسلسل اذیتیں دے رہے ہیں۔
