فلسطین کےمقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز کی ایک جیل میں تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے ایک سیاسی کارکن انس ابو مرخیہ کو رہا کردیا گیا ہے۔
ادھر دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ رام اللہ اتھارٹی نے مغربی کنارے کےشہر بیت لحم سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی اسیران کی رہائی پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تین ہفتوں کی مسلسل بھوک ہڑتال کے بعد رہائی پانے والے شہری انس کا تعلق مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے ہے۔ سابق اسیر کےایک مقرب ذرائع کا کہنا ہے کہ انس رہائی کے بعد اپنے گھرپہنچ گئے ہیں تاہم وہ فی الحال اپنی رہائی کے بارے میں کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
ادھربیت لحم جیل کے باہر اپنے پیاروں کے لیے دھرنا دینے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے اور رام اللہ اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد انتظامیہ نے سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھے گئے کارکنوں کو رہا کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
اسیران کے مقربین کا کہنا ہے کہ وہ رام اللہ انتظامیہ کے وعدوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں، لیکن انہیں شبہ ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی ایجنسیاں ان کے ساتھ ہاتھ کرنا چاہتی ہیں کیونکہ جیل انتظامیہ اور ان کے درمیان پہلے بھی مذاکرات ہوئے تھے جن میں انتظامیہ نے تمام سیاسی اسیران کو فوری طورپر رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد انتظامیہ نے اپنا موقف بدل لیا تھا اور کسی ایک اسیر کو بھی رہا نہیں کیا گیا۔
