فلسطینی مفاہمت کے بنائی گئی کمیٹیوں کے اراکین میں سےایک اہم رکن نے انکشاف کیا ہے کہ مفاہمت پر عمل درآمد کے لیے فتح اور حماس کے مابین سیاسی اختلافات کی پاداش میں گرفتار شہریوں کی رہائی کے پہلے مرحلے کے سلسلےمیں رابطے شروع ہو گئے ہیں۔
بنیادی آزادیوں کی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر فلسطینی معروف تنظیم جہاد اسلامی کے رہنما خالد البطش نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘کو بتایا کہ آج متوقع طور پر فتح اور حماس کے رہنماؤں کے اتفاق کے بعد غزہ اورمغربی کنارے میں سیاسی اختلافات کی پاداش میں گرفتار کیے گئے اسیران کے پہلے گروپ کو رہا کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا ’ہمیں امید ہے کہ اس سلسلے میں دونوں فریق ہمارے سامنے مثبت نتائج پیش کریں گے‘
ان کا کہنا تھا ہم سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے مسلسل دونوں حکومتوں سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خالد البطش کا کہنا تھا کہ غزہ کی حکومت کی جانب سے محمودعباس کے گھر کو فتح کے لیے کھولنے اور تحریک فتح کا غزہ میں ہیڈ کوارٹر بنانے کےاقدام سے اعتماد سازی کے عمل کا آغاز ہو گیا۔ انہوں نے بتایا ’’ہمیں غزہ حکومت کے میڈیا سیل کی جانب سے غزہ اور مغربی کنارے کے اخباروں کو غزہ میں کام کرنے کی اجازت دینے پر رضامندی کا پیغام بھی موصول ہوا ہے‘‘
خالد البطش کے مطابق ان سے فریقین نے وعدے کر رکھے ہیں ابان وعدوں پر عمل کا وقت آ گیا ہے۔ وعدوں پر عمل کا پہلا اقدام سیاسی اسیران کیرہائی بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا ’’حکومت اور حماس کو سیاسی اختلافات کی بنا پر قید کیے گئے افراد کی رہائی میں کوئی مسئلہ نہیں، ہم تو مفاہمت کی ہر شق پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم معاملے میں فتح کی جانب سے تعاون بھی ضروری ہے‘‘

