فلسطینی سپریم کونسل برائے مفاہمت کے سیکرٹری اور فلسطینی پیپلز پارٹی کے سیاسی ونگ کے کارکن نافذ غنیم نے زور دے کر کہا ہے
کہ سپریم کمیٹی کے وفد کو اب تک مصریوں کی جانب سے قاھرہ کی باقاعدہ دعوت نہیں ملی ور نہ ہی یہدورہ وفد کے پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
ہفتے کے روز ذرائع ابلاغ کے لیے جاری اپنے بیان میں نافذغنیم نے واضح کیا کہ حقوق و ترقی کے عالمی نیٹ ورک نے مصر میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا ہے جس میں فلسطین کی مختلف کمیٹیوں کے اراکین اور معروف سیاسی و سماجی شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ ورکشاپ کے دوران عبوری انصاف کی فراہمی پر گفتگو کےساتھ ساتھ ان قوموں کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا جنہوں نے داخلی انتشار اور مقامی جنگوں کے باوجود اپنے مسائل پر قابو پاکر مفاہمت حاصل کرنے میں کامیابی حاصلکی۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کونسل اس ضمن میں کوئی تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ اس دورے سے فلسطینی تنظمیوں کے مابین مفاہمت پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ سب کو معلوم ہے کہ مفاہمت پر بحران جاری ہے بالخصوص عبوری حکومت کی تشکیل اور فلسطینی انتخابات کی تیاریوں کے معاملات پر ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ فلسطینی معاشرے میں اس وقت تک مفاہمی فضا پیدا نہیں ہو سکتی جب تک سیاسی طرح پر اختلافات ختم ہو کر اتفاق رائے اور مفاہمت نظر نہ آنے لگے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
