(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی عدالتوں نے دو فلسطینی شہریوں کو یہودی فوجیوں پر سنگباری کرنے، احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے اور سوشل میڈیا پر اسرائیل مخالف مواد پوسٹ کرنے کے الزامات کےتحت قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کی مجسٹریٹ عدالت نے الشیخ خالد المغربی کو 11 ماہ باضابطہ قید کی سزا کا حکم دیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس’’فیس بک‘‘ اور ٹیوٹر کے ذریعے اسرائیل کے خلاف اشتعال پھیلانے کی کوششیں کررہے تھے۔ انہوں نےسوشل میڈیا پر یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزمواد بھی پوسٹ کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ مختلف مساجد میں بھی یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ خالد المغربی ماضی میں بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے گرفتار کیے جاتے رہے ہیں۔ پچھلے سال انہیں مسجد اقصیٰ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر یہودیوں کے بچوں کے قتل کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا مگر صہیونی فوج عدالت میں الزامات ثابت نہیں کرسکی۔
بیت المقدس کی ایک دوسری مجسٹریٹ عدالت نے 19 سالہ اسیرمحمد جہاد علیان کو یہودی آبادکاروں اور فوجیوں پر سنگ باری کے الزام میں چا ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ علیان کو صہیونی فوجنے گذشتہ برس نومبر میں مشرقی بیت المقدس کے العیساویہ قصبے سے حراست میں لیا تھا۔
