عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سفلیت شہر میں قائم یہودی کالونی کے آس پاس یہودی آباد کاروں کی غیرمعمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ یہودی کالونی کی شمالی سمت میں کئی منزلہ ایک پلازے کی تعمیر حال ہی میں شروع ہوئی ہے جو موسم کی خرابی کے علی الرغم جاری ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض یہودی آباد کاروں نےبھاری یہودی کالونی میں تعمیرات کے لیے استعمال ہونے والی بھاری میشنری پہنچا دی تھی۔ ان میں کرینیں اور بلڈورز بھی شامل ہیں۔ یہ میشنری فلسطینیوں کی زرعی اراضی پر یہودیوں کے لیے کثیرالمنزل مکانات کی تعمیر کے لیے منگوائی گئی ہے۔
ایک مقامی سماجی کارکن خالد المعالی کا کہنا ہے کہ تازہ تعمیراتی کام سلفیت کے قریب وادی عبدالرحمان میں فلسطینی کسانوں کی اراضی پر شروع کیا گیا ہے۔ یہ اراضی فلسطینی شہریوں کا واحد ذریعہ معاش ہے۔
خالد المعالی کا کہنا تھا کہ "ارائیل” کالونی میں 35 ہزار یہودی آباد ہیں۔ اسی کالونی میں "ارائیل” یونیورسٹی بھی قائم ہے جس میں 15 ہزار یہودی طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
