مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر محیسن کا کہنا تھا کہ فتح کی قیادت کو فلسطینی اتھارٹی کی تیار کردہ قرارداد کے بعض نکات پر تحفظات تھے اور اہم قرارداد میں اپنی مرضی کی ترامیم چاہتے تھے مگر صدر محمود عباس نے قرارداد فتح کی قیادت کےسامنے باضابطہ طورپر پیش ہی نہیں کی اور جماعت کے قائدین سے کسی قسم کا صلاح مشورہ نہیں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں یہودی آباد کاری اور بیت المقدس کے حوالے سے فتح کی قیادت کو سخت اعتراضات ہیں، لیکن ہمیں اس پر رائے دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔
ڈاکٹر جمال محیسن نے واضح الفاظ میں کہا کہ رام اللہ اتھارٹی کی طرف سے سلامتی کونسل میں جو قرارداد پیش کی گئی ہے اس کا فلسطین کی آزادی کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسے فلسطینی قوم کی نمائندہ اور قومی مطالبات کی ترجمان قرارداد نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد جمع کرایا ہے جس میں دو سال کے اندر اندر فلسطینی ریاست کےقیام اور مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس قرارداد کے پیش کیے جانے کے بعد یہ خبریں آنے لگی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی بالخصوص صدر محمود عباس نے قرارداد کی تیاری میں فلسطین کی کسی سیاسی جماعت حتیٰ کہ اپنی پارٹی تحریک فتح کی قیادت سے بھی مشورہ نہیں کیا گیا اور اس اہم قومی مسئلے میں پوری فلسطینی قیادت کو بائی پاس کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
