اسرائیل کی سالم فوجی عدالت نے جنین سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی نوجوان کی رہائی سے انکار کردیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق 37 سالہ فلسطینی اسیر محمد زکارنہ کو مسلسل پانچویں مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ دوران حراست صہیونی سفاک تفتیش کاروں نے زکارنہ کے سر میں ضربیں لگائیں جس کے نتیجے میں اس کی کھوپڑی میں گہرا زخم آیا ہے۔ شدید زخمی ہونے کے باجود صہیونی جیل حکام اس کا علاج کررہے ہیں اور نہ ہی اسے رہا کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں اسیر کے وکلاء نے اسرائیلی فوجی عدالت سالم میں زکارنہ کی رہائی کے لیے ایک درخواست دی تھی، کل جمعرات کو صہیونی عدالت نے درخواست کی مختصر سماعت کے بعد اسے مسترد کردیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
