فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ اس سے زیادہ فلسطین میں قومی مفاہمت کی خواہاں کوئی دوسری جماعت نہیں ہے۔
حماس پارلیمانی انتخابات سے خوف زدہ نہیں بلکہ جمہوری طریقے سے انتخابات بروقت کرانے کی حامی ہے۔ حماس کے مرکزی رہ نما ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ حال ہی میں قاہرہ میں حماس اور فتح کی مرکزی قیادت کے درمیان جو مذاکرات ہوئے ہیں ان کے مطابق دو ماہ قبل خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان طے پائےمفاہمت فارمولے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور فتح کی قیادت کےدرمیان اگلے مذاکرات آئندہ ہفتے ستائیس مئی کو قاہرہ میں ہوں گے جن میں مفاہمت کے حوالے سے اہم پیش رفت کی جائے گی۔
ایک سوال کےجواب میں حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ مفاہمت کے سلسلہ میں موجودہ وقت نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے چلا گیا تو آنے والے وقت میں مصالحت مزید مشکل ہوجائے گی۔ حماس نے مفاہمت کی روح کےمطابق مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کی کوششیں کی ہیں اور ہم ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مفاہمت ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مفاہمت کے تمام نکات ایک ہی بار طے پا جائیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ قومی حکومت کے قیام کے بعد مفاہمت کے متنازعہ امور پراتفاق رائے قائم کرنا اور آسان ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں قومی حکومت کی تشکیل کے سلسلےمیں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔
ڈاکٹراسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پارلیمانی انتخابات کرانے سے خوف زدہ نہیں ہے بلکہ مذاکرات کے لیے ہنگامی حالت کے بجائے جمہوری طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ قومی حکومت انتخابات کے لیے جو تاریخ مقرر کرے گی حماس اس کی پابندی کرے گی اور اس کےمطابق تیاری کرے گی
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

