فلسطین کی سرکردہ خاتون سماجی اور سیاسی کارکن عبیرعودہ نے فلسطینی اتھارٹی کےخلاف مغربی کنارے کے وسطی شہررام اللہ میں احتجاجی دھرنا دیا ہے۔
عبیر عودہ کا کہنا ہے کہ جب تک رام اللہ اتھارٹی اس کے علاج کے سلسلے میں برتی جانے والی لاپرواہی ختم کرکے اس کے علاج کی یقین دہانی نہیں کراتی وہ احتجاج جاری رکھے گی۔ خیال رہے کہ عبیرعودہ مغربی کنارے کی سرکردہ سیاسی کارکن ہیں۔ انہیں پچھلے سال اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے ایک تبادلے کی ڈیل کے تحت جیل سے رہا کیا گیا تھا تاہم اسیری کے دوران وہ کئی خطرناک امراض کا شکارہوچکی تھیں، رام اللہ اتھارٹی نے ان کا علاج کرانے کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن رام اللہ انتظامیہ اپنے ان وعدوں پرپوری نہیں اترسکی ہے جس پرعبیرکو احتجاج دھرنا دینا پڑا ہے۔
صہیونی جیلوں میں عبیر کو کئی مرتبہ قید تنہائی میں ڈالا گیا اور ہولناک تشدد کے باعث ان کا جسم چورچور تھا۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی میں بھی تکلیف ہے اور معدے سمیت کئی دوسری بیماریاں بھی انہیں گھیرے ہوئے ہیں۔
رام اللہ میںالمنارہ چوک میں جہاں عبیر نے دھرنا دیا ہے اس کے آس پاس کئی بینروں اور کتبوں پررام اللہ حکومت کےخلاف سخت الفاظ میں نعرے درج ہیں۔ انہی میں ایک یہ نعرہ بھی شامل ہےکہ ’’جنہیں ہم ذرائع ابلاغ کے ذریعے فرشتے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اصلا شیطانوں کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ دوسروں کے حقوق غصب کررہےہیں‘‘۔
