فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں سابق فلسطینی اسیران کی دوبارہ گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ سابق اسیران کی ازسر نوگر فتاریاں صہیونی دشمن کی غداری ہے۔ مصرکو چاہیے کہ وہ صہیونی ریاست کو تبادلہ اسیران کی شرائط کا پابند بنائے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے پارلیمانی بلاک”اصلاح وتبدیلی” کے سربراہ اور حماس کے مرکزی رہ نما ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج گذشتہ برس رہا کیے گئے فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ مصر کی ثالثی سےجو معاہدہ طے کیا تھا اس میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ اسرائیل”محررین” کو دوبارہ گرفتار نہیں کرے، لیکن اس شرط کے تسلیم کیے جانےکے باوجود صہیونی فوج نے مغربی کنارے سے متعدد سابق اسیران کو حراست میں لے کر انہیں بغیر کسی الزام کے جیل میں ڈال دیا ہے۔
حماس رہ نما کا کہنا ہے کہ تبادلہ اسیران کے ضمن میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ریڈ کراس بھی اس بات کی گواہ ہے کہ صہیونی ریاست نے حماس کے ساتھ قیدیوں کی ڈیل کرتے ہوئے رہا کیے جانے والے شہریوں کی دوبارہ گرفتاری سے اجتناب برتے گا۔
ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے سابق اسیران کی از سرنو گرفتاریوں کی شددی مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی فلسطینی قوم کےخلاف جاری جنگ کاحصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ثابت کر دیا ہےکہ اس کے نزدیک کسی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور فلسطینی عوام کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک سمجھوتہ طے پایا تھا جس کے تحت حماس نے مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے صہیونی فوجی گیلادشالیت کو رہا کیا اور اس کے بدلے میں اسرائیل نے ایک ہزار پچاس فلسطینیوں کو رہا کر دیا تھا۔ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے سے کچھ فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کیا ہے ان میں سابق اسیران بھی شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

