اسرائیلی فوج کے ایک سابق جنرل عوذی ڈیان نے یہودی طلباء کو مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کے لیے انہیں ہمہ وقت اور غیرمعمولی اندازمیں مسجد اقصیٰ پر یلغار کی ترغیب دی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطاب جنرل ڈیان جو ان دنوں یہودی طلباء کی بہبود کے لیے قائم ایک کونسل کے سربراہ ہیں نے اپنے ایک بیان میں طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مسجد اقصٰی میں جس طریقے سے دھاوا بولنے کی ضرورت تھی، آج تک ایسا نہیں کیا گیا۔ یہودی آباد کاروں کے داخلے سے مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکی ہے۔ اب یہ کام صرف یہودی طلبا ہی کر سکتے ہیں۔ یہودی طلباء بار بار اور زیادہ سے زیادہ تعداد کے ساتھ "جبل ہیکل” پر یلغار کریں تاکہ مسجد اقصٰی کی تقسیم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جا سکیں جیسے مغربی کنارے میں مسجد ابراہیمی کو یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنے کے حالات پیدا کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں موجود تاریخی جامع مسجد ابراہیمی کو صہیونیوں نے ایک سازش کے تحت دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ مسجد کا ایک حصہ یہودیوں کے قبضے میں ہے جہاں یہودی آباد کار روز مرہ کی بنیاد پر داخل ہو کر وہاں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں، جبکہ بقیہ حصہ مسلمانوں عبادت گذاروں کے لیے مخصوص ہے۔ یہودی جنرل اور دیگر انتہا پسند صہیونیوں کی خواہش ہے کہ وہ مسجد ابراہیمی کی تقسیم کے انداز میں مسجد اقصیٰ کو بھی یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کر دیں۔
صہیونی جرنیل عوذی ڈیان کے اس متنازعہ بیان پر فلسطینی مذہبی اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” نے ایک بیان میں عوذی کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی مقام پر حملے کی براہ راست ترغیب قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی سابق فوجی عہدیدار کا بیان مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کی کھلی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ یہودیوں کو نہ صرف قبلہ اول پر حملوں کی شہ دے رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کے تاریخی مذہبی مقام کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی سازش کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہودی جنرل کے بیان اور یہودی طلباء کو قبلہ اول پر یلغار کی ترغیب کا حتمی نتیجہ مسجد اقصیٰ کی تقسیم کے خطرناک نتائج پر منتج ہوتا دکھائی دے رہا۔ فلسطینی عوام اور مسلمانوں صہیونیوں کی اس شرانگیز سازش کو کس صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔ مسجد اقصیٰ پرمسلمانوں کے سوا کسی دوسرے مذہب اور ملت کے پیروکاروں کا کوئی حق نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں مسجد ابراہیمی پر یہودیوں کا قبضہ بھی ناجائز ہے۔ بھلا ایک مسجد بھی یہودیوں کی عبادت گاہ ہو سکتی ہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اخبار”معاریف” نے جنرل ڈیان کا جو بیان نقل کیا ہے اس میں انہوں نے مسجد اقصیٰ کا براہ راست نام لینے کے بجائے زیادہ تر”جبل ہیکل” کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ عموماً یہ اصطلاح مسجد اقصیٰ ہی کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس سے مراد مسلمانوں کا قبلہ اول ہی ہوتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
