(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف 95 روز تک مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد اسامہ القیق کو اسرائیلی فوج کی جانب سے اسپتال میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقے میں قائم العفولہ اسپتال میں زیرعلاج محمد القیق کے کمرے میں داخل ہو کر اسے گالیاں دیں، برا بھلا کہا اوراسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے بعد وہاں پر اس کے استعمال کے لیے رکھا سامان بھی اٹھا لیا۔ادھر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’’فیس بک‘‘ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان مین القیق کی اہلیہ فیحاء شلش نے بتایا کہ گذشتہ روز ایک اسرائیلی فوجی اور ایک سول یہودی اہلکار العفولہ اسپتال میں القیق کے کمرے میں داخل ہوئے۔ فوجی اہلکار سخت غصے میں تھا۔ اس نے القیق کے ساتھ بدتمیزی کی اور کہا کہ تمہیں تو مرجانا چاہیے تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
شلش نے بتایا کہ اسپتال میں زیرعلاج اس کے شوہر کے ساتھ بدکلامی کرنے اور دھمکیاں دینے والے اسرائیلی فوجی اہلکار کو وہاں پرموجود القیق کے اقارب نے باہر نکالا۔
بھوک ہڑتالی صحافی کی اہلیہ نے بتایا کہ یہودی فوجیوں کی اس غیرمہذبانہ رویے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
خیال رہے کہ محمد القیق نے اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف تین ماہ سے زائد عرصے تک بھوک ہڑتال کی تھی جس کے باعث اس کی حالت تشویشناک ہوگئی تھی اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی حکام نے مئی میں اس کی رہائی کی یقین دہانی کرائی تھی جس پرالقیق نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔
