مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ جمعہ کے روز صہیونی فوجیوں نے مشرق بیت المقدس میں العیزیریہ کے مقام پر فلسطینیوں کے ایک احتجاججی جلوس پر فائرنگ کی تھی اور اشک آور گیس کے ساتھ نہتے شہریوں پر ربڑ کی گولیوں کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔ اس دوران چودہ سالہ فلسطینی یاسین الکرکی صہیونی فوج کی گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔
بعد ازاں صہیونی فوجیوں نے سڑک کے کنارے پڑے فلسطینی لڑکے کو صہیونی فوج نے رسیوں میں جکڑا اور ایک فوجی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
ایک مقامی فلسطینی صحافی رامی علاریہ جو اس سارے ظالمانہ سلوک کا عینی شاہدین تھا نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے پہلے فلسطینی زخمی لڑکے کو راس قبسہ کے مقام پر گھیرے میں لیا جسے بعد ازاں ایک فوجی جیپ میں ڈال کر کسی نامعلوم مقام کی طرف لے جایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو صہیونی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے ارد گرد فلسطینی شہریوں اور صہیونی فوج کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں قابض فوج کی فائرنگ، اشک آور گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔
