دو دن قبل اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے فلسطینی نوجوان سامر حسن عبد کے گھر والوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ان کے عزیز کا پتا لگوائیں کیوںکہ اسرائیلی حکام کوئی معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں۔
سامر کے عزیز و اقارب کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی انکے پیارے سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی جبکہ سامر کو زخمی حالت میں حراست میں لینے کی وجہ سے ہسپتال میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔
سامر کو قابض اسرائیلی فوج نے نابلس میں اس کی دکان سے گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے سامر کی دکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا جس کے وجہ سے وہ زخمی ہوگئے مگر اسرائیلی فوج نے ان کے زخموں کی پروا نہ کی۔
سامر کے عزاء و اقارب کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کے علاقے سے چلے جانے کے بعد دکان کو دیکھا تو اس میں سامر کا بہت سا خون گرا ہوا تھا اسی وجہ سے وہ ان کی حالت کے بارے میں پریشان ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر دو اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد نابلس میں ایک بڑی حراستی مہم چلا رکھی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
