فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک کو بھیجے گئے سفارتی خطوط میں یورپی ممالک سے کہا ہے کہ وہ رہائی پانے والے اسیر اور فلسطینی فٹبالر محمود سرسک کو داخلہ کی اجازت نہ دیں۔
اسیران کے مطالعہ سنٹر نے رہائی پانے والے اسیر سرسک کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر یورپی ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس قیدی کو قبول نہ کریں یا اس سے کوئی معاہدہ کریں کیوںکہ ان کا ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہے۔
سرسک نے 10 جولائی 2012 کو 96 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد اپنی رہائی حاصل تھی۔ وہ پچھلے ماہ فرانس کے دورے پر تھے جہاں وہ اسرائیل کی فلسطینی اسیران کے خلاف پالیسی کو بے نقاب کرنے کے لئے یورپ کا دورہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ یورپی یونین سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ 2013 کی یویفا یورپین انڈر 21 چیمپئن شپ اسرائیل کو منسوخ کردے۔
سرسک نے نیدرلینڈز اور اٹلی میں فلسطینی اسیران کے لئے اپنی حمایتی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا اور اس کے علاوہ وہ اپریل کے آخر میں میلان مین سالانہ تقریبات سے خطاب کریں گے۔
25 سالہ فلسطینی فٹبال پلیئر محمود سرسک کو پچھلے کچھ مہینوں کے دوران یورپی اور بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
