فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے کوئی واضح نقشہ راہ نہ ہونے کے باوجود اسرائیل کےساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے ان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا وعدہ کیا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کی مشاورتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ "عمان میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کوئی نئے نہیں، ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عمان میں مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ہمارے مطالبات معروف اور واضح ہیں۔ اسرائیلیوں کی جانب سے کوئی نئی چیز سامنے نہیں آئی جسے تسلیم کیا جائے”۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا تیسرا دور ہفتے کو ہو گا جبکہ اس کے بعد پچیس جنوری کو ایک اور دور ہو گا۔ اس کے بعد بات چیت کا عمل ختم کر دیا جائے گا۔
محمود عباس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 26جنوری تک کا وقت ہے۔ اس وقت تک ہم جتنے مذاکرات کے ادوار کر سکتے ہیں کر لینے چاہئیں اور اس کے بعد یہ سلسلہ آگے بڑھانے کے لیےنقشہ راہ متعین کر لینا چاہیے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اگر مذاکرات میں ہمیں کچھ حاصل نہ بھی ہوتو بھی کوئی بات نہیں ہے۔ چھبیس جنوری کے بعد ہم خود ہی فیصلہ کریں گے کہ آیا ہمیں اب کیا فیصلہ کرنا ہے۔
فلسطینی صدرنے کہا کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ اسیران کا تبادلہ کریں گے جس طرح اسرائیل نے حماس کے ساتھ اسیران کا تبادلہ کیا ہے تاہم تل ابیب نے فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ کیے گئے اپنےوعدے کو ایفا نہیں کیا ہے۔

