رپورٹ کے مطابق لندن میں قائم عرب آرگنائزیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مصری فوج اور حکومت رفح گذرگاہ کو بند اور سرحد پر پانی چھوڑ کر دو ملین انسانوں کو اجتماعی سزا دینے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لہٰذا عالمی عدالت رفح گذرگاہ کی بندش کا کیس کم سے کم وقت میں نمٹاتے ہوئے نہ صرف گذرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ صادر کرے بلکہ غزہ کی ناکہ بندی کی معاونت کرنےپر مصری حکومت کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی گذرگاہ کو بند کرنا اور سمندری پانی سے غزہ کی سرحد کو غرقاب کرنا انسانیت کے خلاف وحشیانہ جرائم ہیں اور جنگی جرائم ہیں۔ مصرکے ان جنگی جرائم کی شفاف تحقیقات عالمی عدالت انصاف کی ذمہ داری ہے۔ غزہ کی پٹی کے بیس لاکھ افراد عالمی عدالت انصاف سے انصاف کی امید رکھتے ہیں۔
درخواست میں غزہ کی ناکہ بندی بالخصوص رفح گذرگاہ کے بند کیے جانے سے پیدا ہونے والے انسانی المیے اور اس کے تمام اثرات و نتائج بھی بیان کئے گئے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ رفح گذرگاہ کی بندش سے غزہ میں سنگین انسانی المیہ رونما ہو چکا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری مصری حکومت پرعائد ہوتی ہے جس کی انتقامی پالیسی کے نتیجے میں دو ملین انسان انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مصری فوج اور حکومت غزہ کی پٹی کےلوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی مرتکب ہو رہی ہے۔ لہذا اس کا کڑا احتساب کیا جائے اور قاہرہ حکومت سے دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ دو سال سے بند گذرگاہ کو فوری طورپر کھول دے۔
خیال رہے کہ مصرمیں جولائی 2013 ء کو سابقہ حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اقتدار میں آنے والی فوجی حکومت نے غزہ کی پٹی کی گذرگاہ بند کردی تھی۔ گذرگاہ کی بندش کے ساتھ ساتھ سرحد پربنی زیرزمین سرنگیں بھی مسمار کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
