فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان اگلے کے وسط میں غزہ کا دورہ کرینگے۔ انہوں نے بتایا کہ ایردوان نے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کو ٹیلی فون کرکے بتایا ہے کہ اسرائیل عنقریب غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کردیگا۔
گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان سے اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں 31 مئی 2010ء کو اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز کی جانب سے ترک بحری جہاز پر حملے کی معافی مانگ کر اس کارروائی میں شہید ہونے والے نو ترک رضا کاروں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کا بھی اعلان کردیا تھا۔
خیال رہے کہ اس حملے کے بعد سے ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے، ترکی کی جانب سے تعلقات بحال کرنے کے لیے بارہا اسرائیل سے تین مطالبات کیے گئے تھے۔ جن میں باقاعدہ معاقی، شہداء کے ورثاء کو معاوضے کی ادائیگی اور غزہ محاصرے کا خاتمہ شامل تھے۔
اسماعیل ھنیہ نے جمعہ کی شام حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کی شہادت کو نو برس مکمل ہونے پر منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ترکی کے دو نہیں بلکہ تینوں مطالبات مان لیے ہیں اور عنقریب اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کردیگا۔
ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ایردوان کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے اندر خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل کی اجازت دیدی ہے جب تک سیز فائر جاری رہتا ہے اسرائیل ضروریات زندگی کی اشیاء غزہ میں داخل کرنے کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
