فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ کےایک ہوٹل میں یہودی آباد کاروں کی اطلاع ملتے ہی مقامی فلسطینی شہریوں نے ہوٹل پر ہلہ بول دیا۔ ریستوران پر سنگ باری کر کے اس کی کھڑکیاں اور شیشے توڑ دیے،
جس کے بعد صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ پولیس کو مداخلت کر کے یہودیوں کو وہاں سے نکالنا پڑا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی آباد کاروں کی کوئی بیس کے قریب سرکردہ شخصیات رام اللہ کے وسط میں”سٹی” ہوٹل میں اسرائیل نواز گروپوں کے ساتھ باہمی تعلقات بہتر بنانے پرغور کے لیے جمع ہوئے تھے۔ فلسطینی شہریوں کو ہوٹل میں یہودیوں کی موجودگی کی خبرملی تو انہوں نے ہوٹل کا محاصرہ کرکے اس پر سنگ باری شروع کردی۔ اس پرعباس ملیشیا نے مداخلت کی اور ہوٹل میں موجود یہودی آباد کاروں کو پولیس کی گاڑیوں میں وہاں سے فرار کیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رام اللہ کے سٹی ہوٹل میں جمع ہونے والے یہودیوں میں صہیونی فوج کے کئی سابق افسران بھی موجود تھے۔ ان میں سنہ 2002ء میں رام اللہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قتل میں ملوث یہودی فوجی افسران بھی شامل تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ سماجی سطح پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مفاہمتی کوششوں میں مصروف ہیں اور اسی سلسلے میں اس ہوٹل میں جمع تھے۔
پی آئی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایک فلسطینی کارکن نے ہوٹل کے اندر داخل ہو کر کانفرنس ہال میں اسرائیلی پرچم اتار کر وہاں فلسطینی پرچم لہرادیا۔ تاہم پولیس نے بعد ازاں اسے ہال سےنکال دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
