مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی اباد کاروں نے مزفیہ کرامیم نامی یہودی گائوں تین سال قبل اپنی مدد آپ کے تحت آباد کیا تھا جو یہودی کالونی "کوخاب ھشاحر” سے کوئی 700 میٹرکی دوری پر ہے۔ اس میں 20 پکے مکان اور درجنوں شیلٹرز تعمیر کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی حکام یہودی آباد کاروں کو غیرقانونی تعمیرات سے روکنے میں ناکام رہی، جس پر مقامی فلسطینی قصبے دیر جرجیر کے مکینوں نے یہودہوں کی توسیع پسندی کے خلاف اسرائیل کی ایک عدالت میں درخواست دی۔ ایڈووکیٹ حسام یونس کی جانب سے دی گئی درخواست میں یہودیوں کے بنائے گئے تمام مکانات خالی کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کی اراضی واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی سپریم کورٹ کے جج جسٹس اشیر گرونیس نے گذشتہ اتوار کو ایک عبوری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پرسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا تھا کہ وہ مسلح افواج کے مغربی کنارے میں آپریشنل کمانڈر کو یہودی کالونی خالی کرانے کے لیے احکامات جاری کرے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ عادلت نے یہودی توسیع پسندی میں سرگرم تنظیم "امنا” اور فوج سمیت دیگر اداروں کو فیصلے پر نظرثانی کے لیے چار دسمبر تک درخواست دینے کا بھی حق دے دیا ہے
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
