فلسطینی صدرمحمود عباس کی جانب سے ملک کی نمائندہ سیاسی قوتوں کی سخت مخالفت کے علی الرغم صہیونی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اتوار کے روز صدرمحمود عباس نے رام اللہ ہیڈ کواٹرمیں آئے اسرائیلی سیاست دانوں اور سابق فوجی افسران کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد میں مختلف سیاسی رہ نما افرائم سنیہ،چلومو گازیٹ، ایفل گیلادی، اوفیر بینی، ہارون بونڈک اور دیگر شریک تھے۔ ملاقات میں فتح کے سیکرٹری جنرل اور تنظیم آزادی فلسطین کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین یاسرعبد ربہ اور صائب عریقات بھی موجود تھے۔
خیال رہے کہ صدرمحمود عباس نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی اراکین کنیسٹ کے ایک سرکردہ وفد سے ملاقات کی تھی جس پرفلسطین بھرمیں سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ صدر عباس قوم کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی فوج کے سابق عہدیداروں، جرنیلوں اور سیاست دانوں سے خفیہ اور کئی اعلانیہ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرمحمود عباس گذشتہ ہفتے اردن میں شاہ عبداللہ دوم کی موجودگی میں اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک سے بھی ایک ان کیمرہ ملاقات کرچکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایہود باراک سے ملاقات کے دوران فلسطین اتھارٹی اورا سرائیل کے درمیان تعطل کا شکار راست مذاکرات کی بحالی پرغورو خوض کیا گیا۔ اس موقع پرصہیونی وزیردفاع نے صدرعباس شکایت کی کہ انہوں نے جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کوغیر مستقل رکنیت کے لیے درخواست دے کر مذاکراتی عمل کونقصان پہنچایا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
