مغربی کنارے کے شہروں رام اللہ اور نابلس میں قابض اسرائیلی فوج اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ صہیونی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
عینی شاہدین کے مطابق رام اللہ میں بیرزیت یونیورسٹی کے طالبعلموں نے عوفر جیل کی طرف ایک مارچ کا اہتمام کیا تھا جس کا مقصد بھوک ہڑتالی قیدیوں سے اظہار یکجہتی تھا۔ قابض فوج نے مارچ کے شرکاء پر آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں مارچ میں شریک متعدد نوجوان زخمی ہو گئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پچھلے دس دنوں سے عوفر جیل کے نزدیک ہونے والے مظاہروں میں طلبا اور عام فلسطینی روزانہ کی بنیاد پر شرکت کر رہے ہیں۔
اسی اثناء میں رام اللہ کے شمال میں عطارہ چوکی کے نزدیک قابض فوج کی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ نوجوان، فلسطینی اسیران کی صحت کے بارے میں اسرائیلی جیل حکام کے کی غفلت کے احتجاج کر رہے تھے۔
ادھر نابلس میں یتسھار یہودی بستی کے آبادکاروں اور قانون نافذ کرنے والے صہیونی اداروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ یتسھار یہودی بستی نابلس کے جنوبی قصبے بورین میں قائم کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں دوسری جانب فلسطینی طالب علموں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب یہودی آبادکاروں نے قابض اسرائیلی فوج کے زیرحفاظت گاوں پر حملہ کیا۔ قصبے کے باسیوں نے اسرائیلی حملے کا بھرپور دفاع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یتسسار بائی پاس پر جھڑپیں جاری رہیں جن میں قابض فوج نے مقامی فلسطینیوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کئے مگر ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
