مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مغربی کنارے کے شہروں میں اب رام اللہ اتھارٹی اور فتحاوی حکومت کے خلاف روز مرہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ دوائیوں کی قیمتیں بڑھنے سے نہ صرف عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پرائیویٹ کلینک اور ڈسپنسریوں کےمالکان کے ان کی خریداری بھی کم کردی ہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ادویات کی اسمگلنگ کا دھندہ عام ہوتا جا رہا ہے، جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
رام اللہ کے ایک مقامی شہری محمد غنام نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ اسوقت بازاروں میں سب سے سستی دوائی کی قیمت بھی 30 شیکل سے کم نہیں ہے۔ بعض معمولی نوعیت کے امراض کے لیے استعمال ہونے والی عام دوائیوں کی قیمتیں بھی 70 سے 80 شیکل فی دوائی تک جا پہنچی ہے۔ اب تو نزلہ زکام اور بخارکی دوائی کے لیے ایک عام ملازم اور مزدور کو اپنے پورے دن کی اجرت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی کالونیوں میں وہی ادویہ اسرائیلی میڈیکل اسٹوروں پر نہایت سستے داموں مل جاتی ہیں۔
محمد غنام نے استفسار کیا کہ آیا فلسطینی اتھارٹی کا محکمہ صحت کے زیراہتمان ڈرگ انسپکشن اہلکار کہاں ہیں۔ کیا وہ نیند کی گولیاں کھا کر طویل نیند کی آغوش میں چلے گئے ہیں، کیونکہ کئی ماہ سے میڈیکل اسٹوروں کے مالکان نے دوائیوں کی قیمتیں اپنی مرضی کے مطابق بڑھا رکھی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
ڈرگ انسپکشن اتھارٹی بلیک مارکیٹنگ کی ذمہ دار
مغربی کنارے میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کی تمام ترذمہ داری فتحاوی وزارت صحت اور ڈرگ انسپکشن اتھارٹی پرعائد کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ہی علاقے میں فلسطینی آبادیوں میں ادویہ کی قیمتوں اور یہودی کالونیوں میں موجود اس سے بہتر معیار کی دوائیوں کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگراتنا بڑا فرق موجود ہے تو اس کا ضرور کوئی تو ذمہ دار ہوگا۔ یہ ڈرگ انسپکشن اتھارٹی کی دانستہ اور مجرمانہ غفلت ہے جس کے باعث علاقے میں دوائیاں بھی بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے لگی ہیں۔
صارف تنظیم کے ایک عہدیدار ڈاکٹر ایھاب البرغوثی نے پی آئی سی کو بتایا کہ میرے نزدیک قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری فلسطینی وزارت صحت پرعائد ہوتی ہے جبکہ مصنوعی قلت ڈرگ انسپکشن کنٹرول اتھارٹی نے پیدا کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں اب بلیک مارکیٹنگ اور جعلی ادویات کا رحجان عام ہونے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مغربی کنارے میں موجود اسرائیلی کالونیوں اور فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام شہروں میں موجود میڈیکل اسٹوروں پر دوائیوں کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں میں دوائیوں کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
