فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض شہروں میں تعینات فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
فلسطین کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت اسلامی جہاد نے مغربی کنارے سے اپنے کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی دشمن کی مفت میں خدمت قرار دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کی جانب سے جاری ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ انٹیلی جنس حکام جماعت کے کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور ان کی سیکیورٹی مراکز میں طلبیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں جمعرات کے روز مغربی کنارے کے شمالی شہروں طول کرم اور جنین میں جماعت کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے تمام کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ فلسطینی ملیشیاء نے جمعرات کے روز طولکرم اور جنین میں اسلامی جہاد کے کارکنوں کے اور سابق اسیران کےخلاف ایک نیا کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اس دوران جماعت کے دیرینہ کارکنوں محمد ابراہیم رداد اور مومن سماحہ کو حراست میں لےکر تفتیشی مرکز منتقل کردیا۔ ادھرجنین میں بھی سابق اسیر معتصم نزال کو حراست میں لیے جانے کے بعد اریحا جیل منتقل کر دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
