اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مذاکرات کاروں میں خفیہ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں صرف ان فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی بات ہو رہی ہے جو اپنی اسیری کے کم سے کم بیس سال صہیونی جیلوں میں کاٹ چکے ہیں۔
دوسری جانب ایک فلسطینی تجزیہ نگار نے ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے مذاکرات کا ایجنڈا محدود کردیا ہے۔ اب صہیونی ریاست سے ہونے والے خفیہ مذاکرات میں سنہ 1967ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری روکنے کے مطالبات شامل نہیں ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق رام اللہ میں قیدیوں کے امورکو فالو کرنے کے لیے قائم کردہ سپریم کونسل کے چیئرمین امین شومان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ "اسرائیل اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے مابین خفیہ بات چیت کا دور جاری ہے۔ بات چیت میں سنہ 1994ء میں طے پائے ” اوسلو” معاہدے سے قبل گرفتارشدہ فلسطینیوں کی رہائی پرغور کیا جا رہا ہے”۔
شومان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے حتمی فیصلے کا اختیار اسرائیلی صدر کے پاس ہے۔ صدر قیدی کی سزاء مکمل معاف بھی کرسکتا ہے اور اس میں کمی کا بھی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم صہیونی کنیسٹ میں انتہا پسند ارکان پارلیمنٹ پردباؤ ڈال رہے ہیں کہ قیدیوںکی رہائی کے لیے صدر کو دیا گیا اختیار واپس لیا جائے اور یہ اختیار پارلیمنٹ کو دیا جائے ۔
ادھر فلسطینی تجزیہ نگار اسرائیل۔ فلسطین مذاکرات پر نظر رکھنے والے دانشور ھانی المصری نے کہا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی نے اس بار اسرائیل سے مذاکرات میں دو اہم مطالبات کو سرے سے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں کیا۔ یہ دو اہم مطالبے ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں ہرسطح پر شامل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طورپر اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سنہ 1967ء کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی آباد کاری روکنا اور طویل عرصے سے قید فلسطینیوں کی رہائی جیسے مطالبات شامل رہے ہیں۔ لیکن اب فلسطینی مذاکرات کاروں نے اول الذکر دونوں مطالبات ایجنڈے سے خارج کردیے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
