’’قومی کمیشن برائے تحفظ فلسطینی قومی‘‘ نے مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی اور اس کی سکیورٹی فورسز کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
کمیشن کے مطابق اتھارٹی اسرائیل اور اس کی جانب سے فلسطین کو یہودیانے کے عمل کے خلاف انتفاضے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اس لیے اس ختم کردینا چاہیے۔ ذرائع ابلاغ کے لیے جاری بیان کے مطابق قومی کمیشن نے بیروت میں اپنے ھنگامی اجلاس میں کہا کہ یہ بات بارہا تجربات سے ثابت ہوچکی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی جس نے سنہ 1993ء میں اوسلو کے بدنام زمانہ معاہدے پر دستخط کیے، اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور نام نہاد وزیر اعظم سلام فیاض کی زیر سرپرستی فلسطینی قومی، سیاسی اور سکیورٹی کے معاملات پر سودے بازی کر رہی ہے۔ اور اس وقت مغربی کنارے اور پورے فلسطین میں اسرائیلی یہودیانے کی کارروائیوں کے خلاف مزاحمت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کمیشن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ ستر ہزار فلسطینیوں کو گیارہ ملین سے زائد کی تنخواہوں کو یقینی بنانے کے لیے مسئلہ فلسطین کے ظالمانہ حل کی طرف جانے اور غیروں پر مالیاتی انحصار کرنے سے بچنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کرنے اور اس کی سکیورٹی ادارے کو ختم کرنے کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں بچا۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ اتھارٹی اور اس کی سکیورٹی فورسز کو تحلیل کرکے ہی اتنے بڑے مالی خسارے سے نکلا جا سکتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اس وقت اتھارٹی کو تحلیل کرکے قومی انتفاضہ کو بطور اسٹریٹجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس انتفاضے کے لیے عرب اور اسلامی دنیا اور دیگر دنیا کی حمایت کا حصول بھی بڑا چیلنج ہو گا
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

