مغربی کنارے کے صدر مقام رام اللہ میں قائم فلسطینی انتظامیہ اپنے میزانئے کا ایک تہائی حصہ قابض سیکیورٹی اداروں، یہودی آبادکاروں، تیسری انتفاضہ روکنے اور علاقے کے دیہات اور قصبوں میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ارکان کی گرفتاریوں جیسے امور پر صرف کر رہی ہے۔
اکنامک اینڈ ریسرچ اسٹڈی انسٹی ٹیوٹ ‘ماس’ کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے فلسطینی نیشنل اتھارٹی کی ‘پرونٹیو سیکیورٹی فورس،، انٹلیجنس اور خفیہ پولیس اور نیشنل سیکیورٹی اداروں نے سن 2011ء میں کل پیداوار کا 31 فیصد وصول کیا ہے۔
احمد قباجہ نامی محقق کی تیارکردہ رپورٹ کے مطابق ہیلتھ سیکٹر 11، تعلیم و تربیت 19.4 جبکہ سوشل سروسز کے شعبے کو 43 فیصد حصہ ملا ہے۔ سن 2011ء میں نیشنل اتھارٹی کو 2.5 ارب ڈالرز آمدنی ہوئی۔ فلسطینی وزارت مالیات کی ویب سائٹ کے مطابق 2.373 ارب شیکل فلسطینی سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں کو تنخواہوں کی مد میں ادا کئے گئے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
