فلسطین کی ایک سرکردہ عسکری اور سیاسی جماعت”اسلامی جہاد” نے مغربی کنارےمیں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی بلا جواز گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں جماعت کا کہنا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اسرائیل کی خدمت کرتے ہوئے قوم کےخلاف دشمن کی آلہ کار بن چکی ہے
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں مغربی کنارے کے شہروں،دیہات اور مہاجرکیمپوں میں مزاحمت کاروں کی تلاش اور ان کی گرفتاریوں کوصہیونی دشمن کی مفت خدمت قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی قابض فوج سے بھی پہلے مجاہدین اور مزاحمت کاروں کا قلع قمع کرنے کی شرمناک سازش کر رہی ہے۔ محب وطن شہریوں کی گرفتاریاں اور جیلوں میں ان پرہولناک تشدد اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی ادارے قوم کے نمائندہ نہیں بلکہ صہیونیوں کے نمائندہ اور ان کے آلہ کاربن چکے ہیں۔
اسلامی جہاد نے عباس ملیشیا کےہاتھوں گرفتار کیے گئے تمام سیاسی کارکنوں بالخصوص حال ہی میں تنظیم کےحراست میں لیے گئے دو رہ نما ساجی عطایا اور علاء ابو عادی کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ ساجی عطایا اور علاء ابو عادی حال ہی میں اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بعد اپنے گھروں میں پہنچے تھے کہ انہیں سکون کا سانس لینے سے قبل ہی رام اللہ پولیس نے حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
