• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

دو ننھے فلسطینی یہودیوں پر سنگ باری کے الزام میں اسرائیلی جیل منتقل

جمعہ 20-09-2013
in فلسطین
0
plf 18 iof-children
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیل کی ایک عدالت نے دوکم سن فلسطینی لڑکوں پر یہودیوں پرسنگ باری کے الزام میں بنائے گئے مقدمہ ک تحت انہیں جیل بھجوا دیا ہے۔ دس سے بارہ سال کی عمر کے مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی نو نہالوں کوبدھ کے روز صہیونی فوج نے عدالت کے حکم پران کے گھروں سے حراست میں لیا گیا، جنہیں بعدازاں بیت المقدس ہی کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جب صہیونی فوجی ننھے ایمن اور محمد کو حراست میں لینے کے لیے ان کے گھروں میں داخل ہوئے تو بچوں کے والدین اور بہن بھائی سخت خوف زدہ تھے۔ فوجیوں کو دیکھتے ہی بچوے اپنی ماؤں سے لپٹ کر رونے لگے۔ دونوں بچوں کی ماؤں نے آنہوں اور سسکیوں میں اپنے لخت ہائے جگرکوغنڈہ گرد صہیونی فوج کے حوالے کیا۔ بعد ازاں مائیں غم سے سخت نڈھال تھیں اور انہیں غشی کے دورے بھی پڑے۔

خیال رہے کہ صہیونی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے دو کم سن لڑکوں ایمن اور محمد کو گذشتہ ماہ حراست میں لے کر چار دن تک حراستی مراکز میں رکھا جہاں انہیں وحشیانہ جسمانی اور ذہنی اذیت کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے صہیونی فوجی گاڑیوں اور یہودیوں آباد کاروں پر پتھراؤ کیا ہے۔

چار دن کی حراست کے بعد ان کے والدین نے ضمانت پراپنے بچوں کو رہا کردیا تھا لیکن عدالت میں قائم فیصلے کے مطابق انہیں آخری فیصلہ آنے تک گھرمیں نظر بند رکھا گیا۔ گذشتہ روز عدالت نے دونوں بچوں کو دو بارہ حراست میں لے کر ڈیڑھ سال کے لیے جیل بھجوانے کا حکم دیا۔

بچوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد ننھے ایمن کے والد نے مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اپنے لخت جگرکو دشمن فوج کے حوالے کرنا ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کے فیصلے پرہم طاقت کے ذریعے مسلط کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم مزاحمت کرتے اور بچوں کو فوج کے حوالے نہ کرتے ہماری جانوں کوخطرات لاحق تھے”۔

دوسرے ننھے محروس محمد کے ایک مقرب کا کہنا تھا کہ صہیونی فوجیوں نے انہیں بتایا کہ وہ بچوں کو "اصلاحی مرکز” میں رکھیں گے لیکن ہم نے نام نہاد اصلاحی مرکز میں رکھنے کا فیصلہ مسترد کردیا۔ کیونکہ اسرائیل کے اصلاحی مراکز منشیات اور سماجی جرائم کے اڈے ہیں جہاں زیرحراست لوگوں کی اصلاح نہیں بلکہ ان کی عادات بگاڑی جاتی ہیں۔ انہیں نشے اور دیگر جرائم کا عادی بنا کرناکارہ کردیا جاتا ہے تاکہ وہ موثر شہری ثابت نہ ہوسکیں۔ اس لیے ہم نے جیل کا ماحول مشکل ہونے کے باوجود جیل بھجوانے کی حمایت کی مگر اصلاحی مراکز میں رکھوانے سےصاف انکار کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ کم سن فلسطینی بچوں کو حراست میں رکھنا اور انہیں بڑی عمرکے افراد کے مساوی سزائیں دینا اسرائیلی عدالتوں کا وطیرہ ہے۔ گذشتہ کئی سال سے بیت المقدس کے کم عمر بچے صہیونی ریاست کی اس طرح کی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں ایک سو سے زائد افراد ایسے ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں۔ عالمی قوانین کی رو سے انہیں حراست میں رکھنا انسانیت کے خلاف جرم سمجھا جاتا ہے۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.