دوران حراست اسرائیلی جیلروں کی کھلی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں کئی امراض کا شکار سابق فلسطینی اسیر جعفر ابراہیم عوض تین ماہ موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کےبعد آج جمعہ کو جام شہادت نوش کرگیا۔ شہید فلسطینی نوجوان کا تعلق مغربی کنارے کے شمالی شہر الخلیل سے تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق 22 سالہ ابراہیم عوض کو تین ماہ قبل اسرائیلی جیل سے اس وقت رہا گیا تھا جب وہ کئی جان لیوا امراض کا مبتلا تھا۔ دوران حراست وہ طویل عرصےتک جیل میں بیمار پڑا رہا۔ صہیونی جیلروں کی جانب سے اس کے علاج معالجے میں کھلی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی بیماریوں دن بہ دن شدت اختیار کرتی چلی گئیں۔
الخلیل شہر میں المیزان میڈیکل کمپلیکس کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے ابراہیم عوض کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوض کو شدید نمونیا، سانس کی بیماری، دل کے پٹھوں کی کمزوری، شوگر، تھائی رائیڈ، گردن کےپٹھوں کی بیماری اور لبلبہ میں تکلیف جیسی کئی بیماریاں ایک ساتھ لاحق تھیں۔ وہ بات چیت سے بھی قاصر تھا اور اس کی بینائی بھی ختم ہوچکی تھی۔ پچھلے تین ماہ سے وہ اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرعلاج رہا ہے مگر آج جمعہ کو وہ خالق حقیقی سے جا ملا۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے سربراہ عیسیٰ قراقع کا کہنا ہے کہ شہید جعفر عوض تین سال تک اسرائیل کی جیلوں میں پابند سلاسل رہا۔ اسے کئی بیماریاں اس وقت لاحق ہوئیں جب اسے غلطی سے ایچل جیل میں انسولین دی گئی تھی۔ جیل میں شدید بیماری کے باوجود اس کا ایک بار بھی طبی معائنہ کیا گیا اور جب حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی تو اسے رہا کرکے اس پر احسان جتلانے کی کوشش کی گئی۔
جعفر ابراہیم عوض کا تعلق فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے ساتھ تھا۔ صہیونی فوجیوں نے اسے چار بار گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
