فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مرکزی رہ نما عزت رشق نے اسرائیلی رکن پارلیمنٹ "اریے الداد” کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو فلسطین سے باہرکسی دوسرے ملک میں آباد کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
حماس رہ نما کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام اپنی تجاویز اپنے پاس رکھیں، کیونکہ دنیا کی کوئی طاقت فلسطینیوں کو ان کے وطن میں واپس آنے اور یہیں آباد ہونے سےنہیں روک سکتی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی رکن "کنیسٹ” اریے الداد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینیوں کو اردن یا کسی بھی دوسرے ملک میں مستقل طور پر آباد کر دیا جائے تو انکا حق واپسی ختم کیا جا سکتا ہے۔
صہیونی رکن کنیسٹ کے اس بیان پر حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے اپنے فیس بک کےصفحےپر تبصرہ کرتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ اسرائیل سمیت دنیا کی کوئی طاقت فلسطینیوں کو اردن یا کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرنے پر مجبورنہیں کر سکتی۔ فلسطینی اردن کو اپنا ایک پڑوسی ملک سمجھتے ہیں اور ہمارا اپنا وطن صرف فلسطین ہی ہے۔ فلسطین کی آزادی تک ہماری جد وجہد جاری رہے گی۔ حماس سمجھتی ہےکہ جب تک فلسطین سے نکالے گئے لاکھوں شہریوں کو ان کے وطن میں دوبارہ آباد ہونے کا موقع نہیں دیا جاتا اس وقت تک فلسطین آزاد تصور نہیں کیا جاسکتا۔
عزت رشق کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن کی سازشیں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں لیکن فلسطینیوں نے ان سازشوں کو پاؤں کی ٹھوکر رسید کی اور انہیں عملی شکل میںآنے سے قبل ہی درگور کردیا۔
خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں سنہ 1948ء میں اسرائیلی ریاست کےقیام کے بعد سے اب تک کم وبیش 70 لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ لاکھوں بے گھر فلسطینی اب اردن، عراق، لبنان، شام، مصر اورغزہ کی پٹی میں پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ اسرائیل ایک سازش کے تحت ان فلسطینیوں کو اردن یا کسی دوسرے ملک میں آباد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

