فلسطین میں غاصب یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کی مغربی سمت کی دیوار جسے عرف عام میں دیوار براق بھی کہا جاتا ہے پر توراتی مذہبی عبارات پر مبنی ایک پوسٹر چسپاں کیا ہے۔
یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کی مقدس کتاب کی عبارات پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا یہودی تعویز ہے۔ جسے مسجد اقصیٰ کی دیوار البراق پر معلق کیا گیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں یہودی آباد کاری میں معاونت کرنے والی ایک این جی او کی ویب سائیٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دیوار براق پر دنیا کے سب سے بڑے تعویز کو معلق کرنے کی تقریب معروف یہودی ربی شموئیل ریفوفیٹش کی موجودگی میں منعقد کی گئی۔ تعویز کی تیاری میں بلاطو شارون نے کی جبکہ اس کی اور اس پر ملمع کاری میں اسپانوی فنکار سلفاڈور ڈالی نے بھی کام کیا ہے۔
ویب سائیٹ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی دیوار براق پر یہودیوں کی مقدس عبارات سے منقش تعویز کو چسپاں کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ جگہ یہودیوں کے لیے مخصوص ہے اور یہاں یہودیوں کے علاوہ کسی دوسری قوم یا مذہب کے پیروکاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تعویز کی تیاری میں معاونت کرنے والے یہودی فن کار بلاطو شارن کا کہنا ہے کہ یہ تعویز اپنی جگہ اہم مگر اس کی اہمیت مسجد اقصیٰ کی دیوار کے ساتھ چسپاں ہونے سے اور بھی دو چند ہوجاتی ہےکیونکہ یہ جگہ مذہبی، قومی اور تاریخی اعتبار سے یہودیوں کی ملکیت ہے اور یہاں یہودیوں کو اپنی مذہبی علامات کے اظہار کا حق حاصل ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
