(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں طویل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد القیق نے صہیونی دشمن کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کا امکان مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے بتایا کہ اتوار کو انہوں نے اپنے موکل سے ’’العفولہ‘‘ اسپتال میں ملاقات کی۔ القیق بھوک ہڑتال کے سبب بات چیت نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کی 50 فی صد بات ہی سمجھ میں آسکتی ہے۔ آنکھوں میں بھی شدید سوزش ہے۔ ملاقات کے دوران القیق نے کہا کہ وہ رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے، بھوک ہڑتال پر دشمن سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ابو سنینہ نے بتایا کہ قوت گویائی کے ساتھ ساتھ القیق کی قوت سماعت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور صرف اونچی آواز ہی سن سکتے ہیں۔ میں نے القیق سے پوچھا کہ آیا وہ اسرائیل کی طرف سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کرنے کو تیار ہیں تو انہوں نے زبان سے جواب دینے کے بجائے اپنے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ کےایک ٹکڑے پر لکھا کہ ’’بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے میری پہلی اور آخری شرط یہ ہے کہ مجھے العفولہ اسپتال سے ایمبولینس کے ذریعے رام اللہ کے اسپتال میں پہنچایا جائے۔ اس وقت تک میں بھوک ہڑتال ختم نہیں کروں گا۔
اسرائیلی جیلوں میں 19 فلسطینی صحافی پابند سلاسل ہیں جن میں المجد العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار محمد القیق اپنی انتظامی حراست کے خلاف 69 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں صہیونی فوج نے پچھلے سال نومبر میں حراست میں لیا تھا دورن حراست انہیں وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں انہیں انتظامی قید میں ڈال دیا گیا تھا۔
